ستم گری
معنی
١ - ظلم ڈھانا، جور و جفا کرنا، ظلم و ستم۔ "ٹ کا یہ ناتا ٹٹو کے ساتھ خواہ مخواہ کی ستم گری ہے حالانکہ ٹٹو کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔" ( ١٩٨٧ء، افکار، کراچی، دسمبر، ٥٢ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'ستم گر' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٨٤ء سے "مضامین مفیع" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ظلم ڈھانا، جور و جفا کرنا، ظلم و ستم۔ "ٹ کا یہ ناتا ٹٹو کے ساتھ خواہ مخواہ کی ستم گری ہے حالانکہ ٹٹو کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔" ( ١٩٨٧ء، افکار، کراچی، دسمبر، ٥٢ )